مستند احادیث، قرآن کریم کے اصولوں اور اہلِ سنت علماء کی تشریح کے مطابق جانیں کہ کیا نیند سے وضو ٹوٹتا ہے، نیز ہلکی اور گہری نیند کے درمیان فرق۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور حضرت محمد ﷺ اسی کے بندے اور رسول ہیں۔
یہ مسئلہ کہ کیا نیند سے وضو ٹوٹتا ہے، فقہ کی کتابوں میں نبی ﷺ کی مستند روایات کی روشنی میں زیر بحث آیا ہے۔ صحیح سمجھ یہ ہے کہ نیند کا ایک ہی حکم نہیں ہے؛ بلکہ یہ نیند کی گہرائی اور ہوش کی کمی پر منحصر ہے۔
اس بات کا ثبوت کہ نیند وضو کو متاثر کر سکتی ہے
حضرت صفوان بن عسال (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب ہم سفر میں ہوتے، تو نبی ﷺ ہمیں حکم دیتے کہ ہم اپنے موزوں کو تین دن تین رات نہ اتاریں سوائے جنابت کے، لیکن پاخانے، پیشاب یا نیند کی وجہ سے نہیں۔”
سنن الترمذی، ٨٩; سنن النسائی (کتاب الطہارۃ) – علامہ البانی نے حسن قرار دیا
یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ نیند ان چیزوں میں سے ہے جو ممکنہ طور پر وضو توڑ سکتی ہے۔
ساتھ ہی، دیگر صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کی نیند وضو نہیں توڑتی۔
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں:
“رسول اللہ ﷺ کے صحابہ عشاء کی نماز کا انتظار کرتے یہاں تک کہ ان کے سر جھکنے لگتے، پھر وہ نماز پڑھتے اور دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے۔”
صحیح مسلم، ٣٧٦
اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ہلکی نیند خودبخود وضو کو باطل نہیں کرتی۔
علماء نے دلائل کو کس طرح باہم مربوط کیا
اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے ان دلائل کو جمع کیا اور وضاحت کی کہ نیند دو قسم کی ہوتی ہے:
١. ہلکی نیند (وضو نہیں توڑتی)
یہ اس وقت ہوتی ہے جب شخص اپنے آپ سے باخبر رہتا ہے اور محسوس کر سکتا ہے اگر کوئی چیز اس کا وضو توڑ دے (جیسے ہوا خارج ہونا)۔ یہ قسم بیٹھے، ٹیک لگائے، کھڑے یا حتیٰ کہ مختصر لیٹنے کی حالت میں ہو سکتی ہے۔
٢. گہری نیند (وضو توڑ دیتی ہے)
یہ اس وقت ہوتی ہے جب شخص مکمل طور پر بے ہوش ہو جائے اور محسوس نہ کر سکے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے۔ اس صورت میں وضو کا دوبارہ کرنا ضروری ہے۔
یہ سمجھ نبی ﷺ کے اس فرمان سے بھی تقویت پاتی ہے:
“آنکھ مقعد کی رسی ہے؛ جب آنکھیں سو جائیں تو رسی ڈھیلی ہو جاتی ہے۔”
مسند احمد، ٤/٩٧; علامہ البانی نے صحیح الجامع، ٤١٤٨ میں حسن قرار دیا
حکم کی وضاحت
شیخ ابن عثیمین (رحمہ اللہ) نے وضاحت کی کہ بنیادی عنصر ہوش و باخبری ہے:
“اگر نیند ایسی ہو کہ شخص محسوس نہ کر سکے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا، تو اس کا وضو باطل ہے۔ لیکن اگر اس کی نیند ہلکی ہو اور وہ باخبر رہے، تو اس کا وضو درست رہتا ہے، خواہ وہ بیٹھا ہو، کھڑا ہو یا ٹیک لگائے ہوئے ہو۔”
الشرح الممتع، ١/٢٧٥
شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) اور دیگر علماء جیسے ابن باز اور ابن عثیمین نے اس مؤید رائے کو ترجیح دی کیونکہ یہ تمام صحیح روایات کو جمع کرتی ہے۔
اہم نتیجہ
اہلِ سنت والجماعت کی قوی ترین رائے یہ ہے:
- ہلکی نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
- گہری نیند جو ہوش و باخبری ختم کر دے، وضو توڑ دیتی ہے۔
یہ حکم حالت سے قطع نظر ہے: بیٹھے، کھڑے، لیٹے ہوئے یا ٹیک لگائے۔ اہمیت ہوش و باخبری کی کمی کو حاصل ہے۔
مومن کو طہارت میں احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ یہ نماز کی شرط ہے، لیکن بلا ضرورت سختی سے بھی بچنا چاہیے، کیونکہ اسلام آسانی پر مبنی ہے۔
اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
جواب پڑھیں: English | Arabic | Bangla | Urdu | Hindi | Indonesian | Turkish | French | Spanish | Swahili