صحیح احادیث کی روشنی میں غسل کرنے کا مرحلہ وار طریقہ سیکھیں، جس میں غسل کے فرائض، مسنون اعمال اور عام غلطیاں شامل ہیں جن سے بچنا ضروری ہے۔
تمام کامل حمد و ثنا اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔
غسل اسلام میں مقرر کردہ مکمل طہارت ہے جو بڑی حدث (جنابت) کو دور کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ جماع، انزال، حیض ختم ہونے، نفاس ختم ہونے اور بہت سے علماء کے نزدیک اسلام قبول کرنے کے بعد غسل واجب ہو جاتا ہے۔
طہارت نماز اور دیگر بہت سی عبادات کی صحت کے لیے شرط ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق غسل کرنے کا صحیح طریقہ سیکھنا چاہیے۔
"اے ایمان والو! جنابت کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ غسل کر لو۔"
قرآن، سورۃ النساء 4:43
"اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب پاکی حاصل کرو۔"
قرآن، سورۃ المائدہ 5:6
غسل کے فرائض
غسل کے صحیح ہونے کے لیے دو بنیادی امور کا پایا جانا ضروری ہے:
- بڑی ناپاکی دور کرنے کی نیت کرنا۔
- اس بات کو یقینی بنانا کہ پانی پورے جسم اور بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔
اگر یہ دونوں شرطیں پوری ہو جائیں تو غسل صحیح ہو جاتا ہے۔ تاہم مکمل مسنون طریقہ زیادہ کامل اور نبی ﷺ کے عمل کے مطابق ہے۔
سنت کے مطابق غسل کا طریقہ
درج ذیل طریقہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اور میمونہ رضی اللہ عنہا کی صحیح روایات پر مبنی ہے:
1. نیت کرنا
دل میں جنابت، حیض، نفاس یا کسی اور سبب سے حاصل ہونے والی بڑی ناپاکی سے پاک ہونے کی نیت کریں۔ نیت دل کا عمل ہے اور اسے زبان سے ادا کرنا ضروری نہیں۔
2. "بسم اللہ" کہنا
اللہ کا نام لے کر آغاز کریں، کیونکہ طہارت کے اعمال سے پہلے ایسا کرنا مستحب ہے۔
3. دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھونا
پانی میں ہاتھ ڈالنے یا غسل کے باقی مراحل شروع کرنے سے پہلے دونوں ہاتھ اچھی طرح دھو لیں۔
4. شرمگاہ دھونا
شرمگاہ پر موجود نجاست یا منی وغیرہ کے آثار کو صاف کر لیں۔
5. وضو کرنا
اسی طرح وضو کریں جیسے نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اگر غسل ایسی جگہ کیا جا رہا ہو جہاں پانی جمع ہوتا ہو تو پاؤں دھونا غسل کے آخر تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
"جب رسول اللہ ﷺ جنابت کا غسل کرتے تو پہلے اپنے ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ دھوتے، اس کے بعد نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے۔"
صحیح بخاری، 248؛ صحیح مسلم، 316
6. سر پر تین مرتبہ پانی ڈالنا
سر پر تین مرتبہ پانی ڈالیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانی بالوں کی جڑوں اور سر کی جلد تک پہنچ جائے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"پھر آپ ﷺ اپنی انگلیاں پانی میں داخل کرتے اور انہیں بالوں کی جڑوں میں پھیرتے۔ جب گمان ہوتا کہ جلد اچھی طرح تر ہو گئی ہے تو سر پر تین چلو پانی ڈالتے تھے۔"
صحیح بخاری، 248؛ صحیح مسلم، 316
7. پورا جسم دھونا
باقی پورے جسم کو اچھی طرح دھوئیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانی جسم کے ہر حصے تک پہنچ جائے۔ سنت کے مطابق پہلے دائیں جانب اور پھر بائیں جانب دھوئیں۔
خاص طور پر ان مقامات کا خیال رکھیں جنہیں لوگ اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں:
- بغلوں کے نیچے۔
- گھٹنوں کے پیچھے۔
- ناف کے اندر۔
- کانوں کے پیچھے۔
- ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان۔
- گھنے بالوں کے نیچے۔
8. پاؤں دھونا (اگر وضو کے دوران نہ دھوئے ہوں)
اگر وضو کے دوران پاؤں دھونا مؤخر کیا گیا ہو تو غسل کے آخر میں انہیں دھو لینا چاہیے۔
میمونہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے غسل کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"پھر آپ اس جگہ سے ہٹ گئے جہاں غسل کیا تھا اور اپنے پاؤں دھوئے۔"
صحیح بخاری، 257؛ صحیح مسلم، 317
کیا غسل کے بعد وضو ضروری ہے؟
اگر کسی شخص نے مکمل مسنون غسل کیا ہو جس میں وضو بھی شامل ہو تو اسے نماز سے پہلے دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں، الا یہ کہ بعد میں اس کا وضو ٹوٹ جائے۔
اگر کسی نے طہارت کی نیت سے صحیح غسل کیا اور غسل کے دوران وضو توڑنے والی کوئی چیز پیش نہ آئی تو بہت سے علماء کے نزدیک وہ نماز کے لیے کافی ہے۔
کیا عورتوں کو غسل کے لیے اپنی چوٹیاں کھولنی ہوں گی؟
اگر پانی بالوں کی جڑوں اور سر کی جلد تک پہنچ جاتا ہو تو جنابت کے غسل کے لیے عورت کو اپنی مضبوطی سے بندھی ہوئی چوٹیاں کھولنے کی ضرورت نہیں۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے اپنی گندھی ہوئی چوٹیوں کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لو، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو، اس طرح تم پاک ہو جاؤ گی۔"
صحیح مسلم، 330
غسل کرتے وقت عام غلطیاں
- یہ یقینی نہ بنانا کہ پانی جسم کے تمام حصوں تک پہنچا ہے۔
- گھنے بالوں کے نیچے کے حصے کو خشک چھوڑ دینا۔
- یہ سمجھنا کہ نیت کے مخصوص الفاظ زبان سے کہنا ضروری ہے۔
- ضرورت سے زیادہ پانی ضائع کرنا۔
- مکمل طہارت کو یقینی بنائے بغیر جلدی جلدی غسل کرنا۔
شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ نے وضاحت فرمائی کہ صحیح غسل کی اصل یہ ہے کہ طہارت کی نیت کے ساتھ پانی پورے جسم تک پہنچ جائے۔ تاہم مکمل مسنون طریقہ زیادہ افضل ہے کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ہے۔
الشرح الممتع
خلاصہ یہ ہے کہ سنت کے مطابق غسل کا طریقہ یہ ہے کہ نیت کی جائے، ہاتھ دھوئے جائیں، شرمگاہ صاف کی جائے، وضو کیا جائے، سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا جائے، پورا جسم اچھی طرح دھویا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جسم کا کوئی حصہ خشک نہ رہے۔ یہی نبی ﷺ کا طریقہ تھا اور طہارت حاصل کرنے کا سب سے مکمل طریقہ ہے۔
واللہ اعلم۔
جواب پڑھیں: English | Arabic | Bangla | Urdu | Hindi | Indonesian | Turkish | French | Spanish | Swahili