رمضان میں قے سے روزہ ٹوٹنے کے بارے میں اسلامی حکم جانیں۔ قرآن، صحیح احادیث اور علماء کی تشریحات سے مفصل دلائل، جان بوجھ کر اور بے اختیار قے میں فرق واضح کیا گیا ہے۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور حضرت محمد ﷺ اسی کے بندے اور رسول ہیں۔
اسلامی حکم میں قے کیا ہے؟
قے سے مراد کھانے، پینے یا معدے کے مواد کا منہ کے راستے باہر نکلنا ہے۔ اسلامی فقہ میں، روزے پر اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ یہ ارادی طور پر ہوئی ہے یا غیر ارادی۔
کیا قے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
حکم نیت پر مبنی ہے:
- جان بوجھ کر قے کرنا: روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس دن کی قضا کرنی ہوتی ہے۔
- بے اختیار قے آنا: روزہ نہیں ٹوٹتا اور روزہ درست رہتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ایک صحیح روایت میں ان دونوں صورتوں کے درمیان واضح فرق فرمایا:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جسے قے آ جائے (بے اختیار) اس پر قضا نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر قضا ہے۔”
سنن ابی داؤد (٢٣٨٠)، سنن ترمذی (٧٢٠) – البانی نے اسے صحیح قرار دیا
اللہ تعالیٰ نے بیمار اور مشکل میں مبتلا شخص کو بعد میں قضا کرنے کی اجازت دی ہے:
“...اور جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں سے (اتنی) گنتی پوری کرے۔”
قرآن، سورۃ البقرہ ٢:١٨٥
اگر قے بیماری یا ضرورت کی وجہ سے ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے لیکن بعد میں قضا کرنی ہوگی۔
فقہاء وضاحت کرتے ہیں کہ جان بوجھ کر قے کرنا روزہ توڑ دیتا ہے کیونکہ شخص نے معدے سے کوئی چیز ارادی طور پر باہر نکالی ہے، جیسے کھانا یا پینا۔
تاہم، اگر کسی کو متلی آئے اور بے اختیار قے آ جائے تو یہ معاف ہے، اور روزہ درست رہتا ہے کیونکہ اس میں کوئی ارادی عمل شامل نہیں۔
کیا قے کی مقدار کا اثر ہے؟
علماء کے صحیح موقف کے مطابق، مقدار خواہ زیادہ ہو یا کم، حکم میں کوئی فرق نہیں۔ کلیدی عنصر نیت ہے۔ اگر جان بوجھ کر کی گئی تو تھوڑی مقدار بھی روزہ توڑ دیتی ہے۔
قے اور تھوک میں فرق
قے اور تھوک کے درمیان ایک اہم فرق ہے:
- قے: معدے سے نکلتی ہے اور اگر جان بوجھ کر ہو تو روزہ توڑ دیتی ہے۔
- تھوک یا بلغم: حلق یا منہ سے آتا ہے اور روزے کو متاثر نہیں کرتا۔
نتیجہ
جان بوجھ کر قے کرنا روزہ توڑ دیتا ہے اور اس دن کی قضا ضروری ہے، جبکہ بے اختیار قے روزے کی درستگی کو متاثر نہیں کرتی۔ مسلمان کو چاہیے کہ ایسے اعمال سے بچے جو اس کے روزے کو نقصان پہنچائیں، اور عبادت میں احتیاط اور صبر سے کام لے۔
اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
جواب پڑھیں: English | Arabic | Bangla | Urdu | Hindi | Indonesian | Turkish | French | Spanish | Swahili
مزید پڑھیں جواب نمبر: 34, 2, 5